امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے ایران کو بدی کی سلطنت قرار دیا اور واضح کیا کہ ان کی اولین ترجیح مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کو ایران کی ممکنہ خطرناک کارروائیوں سے بچانا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ ایران کو ایٹمی ہتھیار سے روکنے کا وعدہ اس بات کا عکاس ہے کہ وہ عالمی اور علاقائی سلامتی کو اہمیت دیتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ دنیا میں سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو امریکہ کو بہت فائدہ ہوتا ہے، لیکن صدر کے طور پر ان کے لیے زیادہ اہم یہ ہے کہ ایران کو خطے میں تباہی پھیلانے سے روکا جائے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے خلاف آئندہ تین سے چار ہفتے جنگی کارروائیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس دوران وہ فیصلہ کریں گے کہ آئندہ اقدامات کیا ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں، دشمن جنگ جیتا ہوتا تو ثالثی نہ ڈھونڈتا، ایرانی جنرل فدوی
صدر کے اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی رویہ ایران کے ایٹمی پروگرام اور خطے کی سکیورٹی دونوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے دوبارہ زور دیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ ایران کو ایٹمی ہتھیار سے روکنے کا وعدہ امریکہ کی سخت پالیسی اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی حفاظت کی عکاسی کرتا ہے۔













